Urdu Novels: Social Novel
Piyas story is about a family living in the desert of Thal. The head of the family is an employee of Seth G. Sethji does not pay wages to Khuda Bakhsh. Khudabakhsh youngest son dies of hunger and thirst. Sethjis son Sekandar causes his own fathers ruin
Basil is a Thriller, Suspense and romantic Story,  وہ پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی ۔ یوں حواس باختہ بھاگنے کی سبب  منہ آدھے سے زیادہ کھلا تھا ,  کندھوں تک آتے بال  بکھرے ہوئے  تھے۔ اور کھلے ہونے کے باعث جتنی رفتار سے وہ بھاگ رہی تھی  دائیں بائیں  جھولتے ہوئے  بار بار  اس کا  چہرہ ڈھک رہے تھے ۔
Aik Mohabbat Aur Sahi ایک اردو رومانوی ناول ہے جسے عمارہ خان نے عید کے خوشگوار موقع پر لکھا ہے
تم میری ہوکے رہو ناول صالحہ محمود کی ایک اور سماجی اور رومانوی کہانی ہے۔ اس کہانی کو پہلے ماہانہ ڈائجسٹ میں شائع کیا گیا تھا۔ اور قارئین کی جانب سے کافی داد ملی۔ مصنفہ نے 
 اس ناول میں ہمارے معاشرے کے خاندانی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ایک معاشرتی اور رومانٹک کہانی ہے جو ماہنامہ ردا ڈائجسٹ میں تین سال سے شائع ہوتی رہی ہے۔ مصنفہ نے یتیم خانے میں پرورش پانے والے لوگوں کے مسائل پر توجہ دی ہے۔ 
اور ان کی شخصیت میں کچھ کمپلیکسیس كے باری میں بتایا ہے۔
Bheegi Hoi Rut Main is a very famouse urdu romantic and social love story written by Saleha Mehmood.
یہ ایک معیاری جاسوسی ادب کی کتاب ہے۔ اس میں کیلیفورنیا کے پہاڑی علاقے میں گلن کیمپ میں پیش آنے والے سنسنی خیز واقعہ کو بنیاد بنا کر لکھا گیا ہے ۔.
Bin Tere kaisi Eid is a very interesting urdu love and romantic social story written by Maryam Imran.
یہ ایک عمدہ سماجی اور رومانوی کہانی ہے جو لڑکیوں کے محبت میں پڑ جانے کے بعد ان کے جذبات کو بیان کرتی ہے۔ مصنفہ نے کچھ مشکلات کا تذکرہ کیا جو عشق و محبت کا ایک حصہ ہیں۔
یہ ایک خوبصورت سماجی ، رومانوی ناول ہے جو لوگوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتا ہے۔ مصنف نے کہا کہ ہم لوگوں کے کردار کو ان کے چہروں کے ذریعہ دیکھ سکتے ہیں کیونکہ اس سے اصل چیزوں کی عکاسی ہوتی ہے
ہادی
ایک چیخ نما آواز نے بیڈ پر سوئے ہوئے دوسرے وجود کو جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔ خاموشی کو توڑتی اس کی آواز نے مقابل کو اس کے خوف کا پتہ صاف دے دیا تھا۔ حازم شاہ نے جلدی سے کمرے میں موجود لیمپ کو آن کر کے کمرے کو روشن کیا تھا۔ اور عشال شاہ کو دیکھا تھا جو اب گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کرنے کی ادنی سی کوشش کر رہی تھیں۔ حازم شاہ نے آگے بڑھ کر انہیں اپنے حصار میں لیا تھا۔ حازم شاہ جانتے تھے یقینا آج بھی عشال نے ہادی کے حوالے سے کوئی برا خواب دیکھا ہوگا۔
آواز کی لرزش اس کے کرب کی وضاحت چیخ چیخ کر رہی تھی۔۔۔ یہ تو اس کا روز رات کا معمول تھا اس تصویر سے باتیں کرنا۔۔۔ اور اچانک سے اپنے اوپر سختی کا لبادہ اوڑھ لینا۔۔۔ آج بھی لبوں سے نکلے لفظوں سے زیادہ آنکھوں میں آنسوئوں کی آمیزش تھی ۔۔۔ یہ آنسو تو پچھلے آٹھ سالوں سے اس کے مقدر کا حصہ تھے۔۔۔۔ جنہیں وہ چاہ کر بھی اپنی زندگی سے ختم نہیں کر سکی۔